کسی_کے_ہاتھ_نہ_آئے_گی_یہ_لڑکی
کسی_کے_ہاتھ_نہ_آئے_گی_یہ_ لڑکی
از:انعم ثناء
ایپیسوڈ 1
”کیا ہو گیا ہے آپ کو ماما کہاں آ پ کا بیٹا اور کہاں آپ کی وہ گاؤں کی گوار بھانجی۔۔“ عدنان غصے سے بولا اُسے جب سے یہ پتہ چلا تھا کہ اس کی شادی کسی گاؤں کی لڑکی سے ہونے والی ہے وہ تو آپے سے ہی باہر ہوگیا
”بیٹا وہ بہت اچھی لڑکی ہے اک بار مل لو۔۔“عظمی بیگم نے التجا کی
”ماما پلیز نا۔۔۔آپ خود ہی سوچے کیا وہ میرے ساتھ اچھی لگی گی۔میں نے سی ایس ایس کیا ہے اور اس نے میٹرک کیا ہے اُس میں بھی سپلی ہے ہمارا کوئی جوڑ نہیں بنتا۔۔“ وہ منہ بنا کر بولا
”بیٹا اس سے کیا ہوتا ہے اب تم ہی دیکھو میں نے کون سا زیادہ پڑھا ہے اور تمہارے بابا نے ایم اے کیا تھا ہم نے بھی تو اچھی زندگی گزاری ہے۔۔“وہ اس کو سمجھاتے ہوئے بولی
”پہلی بات آپ پرفیکٹ ہیں ماما اور دوسری آج کل دور میں میاں بیوی دونوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔۔“اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح انہیں سمجھائے
”ایک منٹ کیا صرف یہی وجہ ہے شادی سے انکار کی۔۔!!“ وہ مشکوک انداز میں بولی
”ماما میں۔۔میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں۔۔“وہ ٹہر ٹہر کر نرم لہجے میں بولا
”کون ہے وہ۔۔؟“ان کی آوازلڑکھڑائی
”میری یونی کی کلاس فیلو ہے۔۔۔!!“
یہ نئی خبر ان پر بجلی بن کر گری۔۔
وہ انہیں زلزلوں میں چھوڑتا ہوا خود وہاں سے چلا گیا۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"جلدی چلو۔۔“وہ اپنے ساتھ چلتی لڑکی کا ہاتھ کھینچ کر بولی
”چل رہی ہو بابا ایسے کھینچوں مت درد ہوتا ہے۔۔“وہ اپنا ہاتھ مسلتے ہوئے بولی
”آگر ابھی بھاگی نہیں تو یہ کچھ نہیں اس سے بھی زیادہ درد ہو گا۔۔“وہ خطرہ محسوس کر چکی تھی
”مطلب۔۔؟؟“وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
”پیچھے دیکھو۔۔پیچھے۔۔۔“ اس کے کہنے پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تواس کی آنکھیں پھیل گئی کیونکہ ان کے پیچھے وہی آدمی آرہا تھا جس کے باغ سے وہ لوگ ابھی کچے آم توڑ کر آئی تھیں
”اب کیا ہو گا۔۔؟؟“ وہ پریشانی سے بولی
”ہونا کیا ہے وہی ہوگا جو منظور خدا ہو گا۔۔“ وہ اک ادا سے بولی
” سیو می سیو می۔۔۔“ وہ اپنے قدموں کی رفتار بڑھاتے ہوئے بولی
”دیکھ اپنی بے سری آواز سے بی ٹی ایس کا گانا خراب نہ کر۔۔ورنہ لحاظ کیے بغیر میں نے تیرے دو لگا دینی ہے۔۔“وہ دانت پیس کر بولی
”اچھا نہیں کرتی پر ابھی تو کچھ کرو ۔۔۔“وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑکر بولی
”جب میں ہوں تمہارے ساتھ تو فکر کی کیا بات۔۔!!“ وہ اک ادا سے بولی
اس نے سوالیہ نظروں سے اپنی بہن کو دیکھا کہ اچانک ہی اس نے چلانا شروع کر دیا
”سانپ سانپ۔۔“
اس کی آواز سن کر آس پاس سے کھتیوں میں کام کرتے ہوئے لوگ جلدی سے ان کے پاس آئے اور وہ آدمی بھی جلدی سے آگے آیا جو ان کے پیچھے آرہا تھا
”کہاں ہے بیٹا۔۔؟“ان میں سے ایک آدمی بولا
”چچا میں نے ابھی یہیں دیکھا تھا۔۔“وہ جلدی سے بولی
”بیٹا تم لوگ گھر جاؤہم دیکھتے ہیں۔۔۔“ وہ پریشانی سے بولا ان کا علاقہ میدانی تھا تو یہاں سانپ وغیرہ ہونا عام سی بات تھی اس لیے سب نے اس کی بات کا یقین کر لیا۔۔
”جی چچا۔۔چلو۔۔“وہ بت بنی اپنی بہن کا ہاتھ کھینچ کر بولی
اس کو ہلتا نہ دیکھ کر اس کا دل چاہا ایک رکھ دے اسے مگر موقعے کی مناسبت سے چپ رہی
”سدرہ چلو۔۔“وہ اس کا ہاتھ زبردستی کھینچ کر چلنے لگی
”ہم بچ گئے۔۔۔۔یاہو سچی ہم بچ گئے۔۔۔۔ہرےےے۔۔۔یا اللّه تیرا شکر۔۔“
جب وہ لوگ کافی آگئے تب جا کر اسکو ہوش آیا کہ وہ بچ گئیں ہیں۔۔۔
”آپی آج تو بچا لیا آپ نے ۔۔“وہ سانس خارج کرتی ہوئی بولی
”تمہیں پتا ہے آجکل کوئی کسی کی مدد فری میں نہیں کرتا۔۔۔“ وہ ہاتھ باندھ کر بولی
”کیا مطلب۔۔۔آپ کو کچھ چاہیے۔۔؟“وہ سوالیہ انداز سے بولی
اس نے ہاں میں سر ہلایا
”چلو مانگو کیا مانگتی ہیں آ پ۔۔دوگی آپ کو ۔۔“ دریادلی کی مثال بننے کی کوشش کی گئی
"سوچ لو ۔۔!!" اس نے وارن کیا
""ارے مانگے تو سہی آپ کو بھی پتہ چلے گا کہ آپ کی بہن کتنا دریا دل ہے ۔۔" وہ نا نظر آنے والے کالر جھاڑتے ہوئے بولی
”وہ آج جو تمہارا بی ٹی ایس والا پارسل آنے والا ہے وہ تم مجھے دو گی۔۔“
”نو جی۔۔۔“وہ چلائی
”وہ ابھی آیا بھی نہیں اور آپ نے وہی مانگ لیا۔۔مجھے پہلے ہی پتہ تھا آپ کی نظر ہے اس پر۔۔“ وہ تیکھی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
”ٹھیک ہے میں اماں کو بتا دو گی کہ ان کے جہیز کے سیٹ کا گلاس جو ٹوٹا تھا وہ کسی بلی نے نہیں تم نے توڑا تھا۔۔“وہ اس کے کان کے پاس ہو کر بولی
”آپ ایسا نہیں کر سکتی۔۔“ بلی کو پڑنے والی گالیوں کا سوچ کر ہی اس نے جھرلی لی
”میں بی ٹی ایس کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔۔“ وہ مطلبی بنی
”اوکے۔۔“ وہ ہار مانتے ہوئے بولی اسے پتا تھا جہاں بی ٹی ایس کی بات آجائے وہاں یہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔۔اور اماں والا رسک وہ لیں نہیں سکتی تھی اور نہ لینا چاہتی تھی
”شکریہ میری بہنا۔۔۔۔تم بہت اچھی ہوں“ وہ خوشی سے اس کو گلے لگاتے ہوئے بولی
”اور آپ بہت برُی ہیں۔۔“ وہ منہ پُھلا کر بولی
اسکی بات پر اس کا قہقہہ کا بلند ہوا۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”سیفی کہاں ہیں آپ۔۔؟؟“اس کے کال اٹھاتے ہی وہ فورا بولی
”راستے میں ہوں۔۔۔“ وہ ڈرائیونگ پر فوکس کرتے ہوئے بولا
”کیا مطلب آپ ابھی راستے میں ہیں۔۔آپ کو پتہ بھی ہے کہ ٹائم کیا ہو رہا ہے۔۔۔“وہ چلائی
اس نے فورا اپنے کان سے موبائل ہاٹھایا ورنہ اس کے کان کے پردہ ضرور پھٹ جاتا
”یار مناہل آرام سے۔۔بس آ رہا ہوں میں۔۔پانچ منٹ میں تمہارے پاس ہوں گا۔۔۔“
”اوکے۔۔“ اس نے کہہ کر فون بند کر دیا
”یہ کیا۔۔“وہ اپنے موبائل کو دیکھتے ہوئے بولا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے اس کی بیگم صاحبہ کی کال آئی تھی۔۔
سر جھٹک کر دوبارہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”نہ کر یار۔۔۔“اس نے نایقینی سے اپنے سامنے بیٹھے دوست کو دیکھا جس نے کچھ ہی دیر پہلے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا
”تو نے سچ میں آنٹی سے یہ کہا ہے کہ تو کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے۔۔“انہیں اب بھی یقین نہیں آرہا تھا
”تو جب سے میں بکواس کر رہا ہوں کیا ۔۔۔!!“اب کی بار اُسے صحیح معنوں میں غصہ آگیا تھا وہ گھر سے سیدھا اپنے دوستوں کے پاس آیا تھا
”پر وہ ہے کون۔۔جیسے تو پسند کرتا ہے۔۔اور ہم نہیں جانتے۔۔“اب کی بار سعد بولا
”ہاں۔۔ہاں۔۔بتاؤ بتاؤ کون ہے ہماری بھابھی۔۔“حمزہ نے بھی بولنا فرض سمجھا۔۔۔
”ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔وہ تو بس شادی سے بچنے کے لیے اُس وقت مجھے جو سمجھ آیا وہ بول دیا۔۔“وہ سانس خارج کرتے ہوئے بولا
”یعنی کوئی لڑکی ہے ہی نہیں۔۔“ سعد صدمے سے چیخا
اس نے نفی میں سرہلایا
”یار یہ تو نے کیا کیا۔۔۔اب لڑکی کہاں سے آئے گی۔۔؟؟“حمزہ پریشانی سے بولا
”جھوٹ بولنے سے اچھا تھا تو اپنی کزن سے شادی کر لیتا۔۔“ سعد منہ بنا کر بولا
”اوئے اس سے ہی شادی کرنی ہوتی تو اپنی ماں سے جھوٹ کیوں بولتا۔۔“ وہ اس کی گردن دبوچ کر بولا
”وہ گاؤں کی لڑکی میرے ساتھ کیسے اچھے لگ سکتی ہے۔۔“ وہ غرور سے بولا
”لیکن۔۔!!“
”بس کر میں اس کی تعریف سننے نہیں آیا ہوں۔۔“وہ اس کے بولنے سے پہلے ہی وہ بول پڑا۔۔۔
”پھر کیا کرے۔۔“ حمزہ نے پوچھا
”کچھ تو کرنا پڑا گا پر یہ تو طے ہے کہ اس گاؤں والی سے شادی نہیں کرنی۔۔۔“ وہ کچھ سوچتا ہوا بولا
*************
ایپیسوڈ 2
ایپیسوڈ 2
”آگئی تم دونوں۔۔“وہ جو چوروں کی طرح اندر آرہی تھی رومیسہ بیگم کی آواز پر چونکی
”گئی بھینس پانی میں۔۔“اس کے منہ سے اچانک نکلا
”آپی اب کیا ہو گا۔۔“ سدرہ نے منہ میں ڈوپٹہ پھسا کر کہا
وہ کچھ بولتی اس سے پہلے ہی رومیسہ بیگم بول پڑی
”کہاں گئی تھی تم دونوں۔۔؟؟“ کڑے تیور لیے وہ ان کے سامنے آگئی تھی
”امی وہ۔۔وہ۔۔ہاں وہ ہم نہر کے پاس گئے تھے۔۔“ پہلے تو اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولے پھر جو جلدی سے دماغ میں آیا وہی بول دیا
”اچھا نہر کے پاس گئی تھی تم دونوں۔۔“ دونوں نے ایک ساتھ ہاں میں سر ہلایا
”اؤچ امی۔۔۔“ان کے کان پکڑنے پر وہ دوبارہ چیخی
”اپنی ماں سے جھوٹ بولتے ہوئے شرم نہیں آتی۔۔“ وہ غصے سے بولی
”مجھے وہ اکرم بھائی سب بتا کر گئے ہیں کہ تم دونوں نے ان کے باغ کا کیا حال کیا ہے۔۔“
انہیں جب سے غصہ چڑھا ہوا تھا جب سے وہ انہیں بتا کر گئے تھے
”اکرم چچا تو فور جی سے بھی تیز نکلے۔۔“ اس نے سرگوشی کی مگر وہ اتنی اونچی ضرور تھی کہ آس پاس کے لوگوں کو سن سکتی تھی
”امی۔۔۔“ان کے پھر سے کان پکڑنے پر وہ چلائی
جبکہ سدرہ پاس کھڑے منہ پر ہاتھ رکھے زیر لب مسکرا دی
”اکیس کی ہونے لگی ہے مگر مجال ہے کہ کچھ عقل ہو۔۔یہ تو بچی ہے تم ہی کچھ خیال کرلیا کرو۔۔“
”امی آپ بار بار میری عمر پر مت آیا کرے۔۔ابھی اتنی بھی بڑی نہیں ہوں میں۔۔اس سے بس دو سال ہی بڑی ہوں۔۔“
وہ سدرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
”اور تم کیوں دانت نکال رہی ہو۔۔“ان کی توپوں کارخ اب سدرہ کی طرف تھا
”امی میری کوئی غلطی نہیں ہے آپی لے کر گئی تھی امی۔۔میں تو شریف سی۔مصوم سی بچی ہوں۔۔“ وہ مصومیت کی ساری حدیں پھلانگ کر بولی
”امی قسم سے جھوٹ بول رہی ہے اس نے خود میرے ساتھ چلنے کی ضد کی تھی۔۔اور آپ اکرم چچا کی بات کا یقین کر رہی ہیں جن کا ان کے گھر والے بھی یقین نہیں کرتے۔۔“
رومیسہ بیگم نے پُر سوچ نظروں سے اس کی طرف دیکھا کہہ تو وہ صحیح رہی تھی اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی گارڈ نے اندر آ کر ایک بکس اس کو دیا اور بولا
”باجی وہ ڈاکیا آیا تھا وہ دے کر گیا ہے۔۔“
”نایاب یہ تو نے پھر سے چینی بندے منگو لیے۔۔۔“ رومیسہ بیگم اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر ہی بتا سکتی تھی کہ اس میں کیا ہے۔۔
”امی پہلی بات و ہ چینی نہیں کورئین ہیں اوردوسری وہ بندے نہیں ان کی چیزیں منگوائی ہیں۔۔اور آخری بات میری قسمت اتنی کہاں کہ میں انہیں یہاں منگوا سکو۔۔“ اس نے آہ بڑھی
”شرم کر شرم اپنی ماں کے سامنے کیسے غیر مردوں کی بات کر رہی ہے۔۔“وہ اس کی کمر پر چپت لگاتے ہوئے بولی
”بھائی میں جا رہی ہوں۔۔“ وہ جلدی سے واک آؤٹ کر گئی کیونکہ اُسے ابھی پارسل کھولنے کی جلدی تھی
”امی میں بھی چلی۔۔۔“ اپنی امی کا رخ اپنی طرف دیکھ کر اس نے بھی جانے میں اپنی عافیت سمجھی
”آلینے دو تمہارے ابا کو میں بتاتی ہوں انہیں۔۔“جب ان سے کچھ نہ بنا تو روایتی امیوں کی طرح آخری دھمکی دی۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تیمور صاحب کا تعلق ایک جاگیردار گھرانے سے تھا ان کی شادی رومیسہ سے ہوئی جو خود ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔۔ان کے تین بچے تھے دو بیٹیاں نایاب اور سدرہ اور ایک بیٹا سفیان تھا جو اپنی بیوی کے ساتھ جرمنی رہتا تھا۔ ان کی بڑی بیٹی نے میٹرک کے بعد تعلیم کو خیر بعد کہہ دیا تھا اور جبکہ چھوٹی بیٹی ایف ایس سی کے پیپرز دے کر رزلٹ کا انتظار کر رہی تھی اس خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے۔۔جبکہ بڑی بیٹی کا ایک ہی خواب تھا وہ زندگی میں ایک بار بی ٹی ایس سے ملے۔۔رومیسہ بیگم کو ہمیشہ ہی اس کی فکر رہتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”یہ لیں اے ایس پی صاحب شاید یہ رقم کافی ہے میرے بیٹے کو چھوڑنے کے لیے۔۔“ سامنے سوٹ بوٹ میں ملبوس کھڑے شخص نے پیسوں کا بیگ اس کے سامنے رکھتا ہوا بولا
ایک تو وہ پہلے ہی غصے میں بڑھا بیٹھا تھا اوپر سے اس کے رشوت پیش کرنے پر اور بڑھک اُٹھا
”علی۔۔۔علی۔۔“ حوالدار اس کی آواز سن کر جلدی سے اندر آیا
”یہ کس کی اجازت سے اندر آیا ہے۔۔“ وہ بنا اس شخص کو دیکھے اس سے بولا
”سر۔۔وہ۔۔سر۔۔“ اس کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا بولے اس کے غصے سے تو سب ہی ڈرتے تھے
”کیا سر،سر لگا رکھی ہے۔۔جو پوچھا ہے اس کا جواب دو۔۔“ وہ اس کے ہکلانے پر غصے سے بولا
”ریلکس اے ایس پی عدنان۔۔ہم بیٹھ کر بھی بات کر سکتے ہیں۔۔“ وہ شخص اس کے کڑے تیور دیکھ کر بولا
”آگر ایک منٹ کے اندر سے تم میرے آفس سے باہر نا نکلے تو بیٹے کے ساتھ حوالات میں بند کر دو گا۔۔“ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا
"تمیز سے بات کرو اے ایس پی ۔۔" وہ بھی غصے سے بولا
"تمیز عزت دار لوگوں کے لئے ہوتی ہے ۔۔"وہ بھی جوابا بولا
”بہت مہنگی پڑی گی تمہیں یہ بے عزتی۔۔“ وہ بھی غصے سے بولا
”سستی چیز ویسے بھی مجھے پسند نہیں ہے۔۔“
وہ غصے سے بیگ اُٹھاتا وہاں سے چلا گیا
”تم میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو جاؤ اور آئندہ کسی کو ایسے میرے آفس میں نہ بھجنا ۔۔“وہ اس کو وران کرتے ہوئے بولا
وہ جلدی میں سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا
”مجھے لگا آج باہر زیادہ پارہ ہائی ہے مگر یہاں باہر سے بھی ذیادہ پارہ ہائی ہے۔۔“سعد جو ابھی آیا تھا عدنان کو سب پر برستا دیکھ کر بولا
”میرا مذاق کا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔“ وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا
”کیا ہوا انٹی نہیں مانی۔۔“اس کی سنجیدہ شکل دیکھ کر اُسنے مذاق کا ارادہ ترق کر دیا
”نہیں۔۔اور مجھ سے بات بھی نہیں کر رہی۔۔“ وہ افسردہ ہو کر بولا
”یار تو فکر نہ کر وہ ماں ہے مان جائے گی ذیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتی۔۔“ اس نے اس کو حوصلہ دیا
ؔ”تو نہیں جانتا ان کو۔۔ جب تک ان کی پوری نہیں ہو گی وہ آرام سے نہیں بیٹھے گی مگر میں بھی ان کا بیٹا ہوں شادی تو میں بھی نہیں کروں گا۔۔“
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا
جبکہ سعد اس کو دیکھتا رہ گیا۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مرتضی اور عظمی بیگم کی شادی ان کے والدین کی پسند سے ہوئی تھی۔ان کے دو بچے ایک بیٹی مناہل جس کی شادی ہو چکی تھی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ جرمنی رہتی تھی۔اور ایک بیٹا عدنان تھا جو پولیس میں تھا
عدنان نے اپنی پسند سے اور پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کرنی تھی مگر جب سے اُسے یہ پتہ چلا تھا کہ اس کی شادی کسی گاؤں والی شادی ہونے والی ہے اس نے گھر میں ادھم مچایا ہوا تھا
٭٭٭٭٭٭٭
”سیفی کیا مسئلہ ہے میں کب سے بات کر رہی ہوں آپ سے اور آپ اس لیپ ٹوپ پر لگے ہوئے ہیں۔۔“
مناہل تنگ آکر بولی وہ کب سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
”مناہل میں کام کر رہا ہوں۔۔۔“ اس نے مصروف انداز سے بولا اسے یہ کام آ ج ہی مکمل کرنا تھا
”ٹھیک ہے کرو یہی۔۔مجھے مت بُلانا اب مت۔۔“ وہ منہ پھلا کر وہاں سے چلی گئی
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا
وہ بنے دیکھے بتا سکتی تھی کہ یہ کون ہے
”اب کیا لینے آئے ہیں۔۔؟؟“ناراضگی ابھی بھی برقرار تھی
”اپنی روٹھی بیگم کو منانے آئے ہوں۔۔“سر کجا کر جواب دیا
”اچھا آپ کو خیال آگیا کہ آ پ کی ایک عدد بیگم بھی ہے۔۔“ طنز کا تیر چلایا گیا
”ہے تو ایک عدد ھی لیکن کہتی ہو تو دو کر لیتا ہوں۔۔“وہ ہونٹ دانتوں میں دبا کر بولا
اس کی بات پر وہ کرنٹ کھا کر پلٹی۔۔لیکن اس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت کو دیکھ کر سب سمجھ گئی۔۔ وہ اس کے قریب ہوئی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
”آنے والی کو بھی مار دو گی اور لانے والے کو بھی۔۔!!“
ا س کی بات پر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ پڑی
" اُٹھ ہی نہیں سکتی نگاہ کسی اور کی طرف
تیرے دیدار نے تیرا پابند بنا دیا ہے “
اس کے شعر پر وہ ہنستے ہوئے اندر کی طرف چلی گئی اور وہ ارے ارے کرتا رہ گیا
Comments
Post a Comment